نئے برطانوی وزیراعظم کے لئے ایک فحش ماڈل و اداکارہ کا نام ابھر کر سامنے آنے پر ایک اور ہنگامہ کھڑا ہو گی
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا ہنگامہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ نئے برطانوی وزیراعظم کے لئے ایک فحش ماڈل و اداکارہ کا نام ابھر کر سامنے آنے پر ایک اور ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ا ستعفے کے بعدخاتون وزیرداخلہ تھریسا مے مضبوط ترین امیدوار ہیں لیکن اتفاق سے ان کے حمایتی اور انہیں وزیراعظم دیکھنے کے خواہش مند عوام ایک غلط فہمی کی بناءپر فحش فلموں کی اداکارہ ٹریسا مے کیلئے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ مغالطہ اس لیے پیدا ہوا کہ دونوں خواتین کے نام تقریباً ایک جیسے ہیں، البتہ ان کے کام میں زمین آسمان کا فرق ہے، مگر برطانوی انٹرنیٹ صارفین کی اکثریت اس فرق کو دیکھ نہیں پارہی۔ سوشل میڈیا ویب سائٹوں پر اداکارہ ٹریسا مے کے نام روزانہ ہزاروں پیغامات بھیجے جارہے ہیں جن میں انھیں برطانیہ کی اگلی وزیراعظم بننے کی درخواست کی جارہی ہے اور ان کے لیے بھرپور حمایت کا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اداکارہ ٹریسا مے خود کو ملنے والی اس غیر متوقع توجہ اور حمایت سے بالکل خوش نہیں ہیں کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ انھیں لوگ ایک فحش اداکارہ کے طور پر ہی دیکھیں۔ وہ اپنے نام آنیوالے سیاسی پیغامات کی بھرمار پر سخت آگ بگولا ہیں۔ انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر مداحوں کو خبردار بھی کیا ہے کہ اگر وہ انھیں وزیرداخلہ تھریسا مے کے طور پر مخاطب کرنے سے باز نہیں آئے تو وہ انھیں بلاک کر دیں گی۔
COURTESY : QUDRAT NEWS
