نئی خبر

آئی ایس آئی کے پانچ ایسے کارنامے جسے ہر پاکستانی کیلئے جاننا ضروری ہے ::دنیا بھر میں جہازوں کی خطرناک لینڈنگ اور ٹیک آف کی ویڈیو ::عازمین حج کو جدہ یا مدینہ ایئر پورٹ سے ہی موبائل فون سمیں خریدنے کی ہدایت ::وہ 33ممالک جہاں پاکستانی بغیر کسی ویزے کے جا سکتے ہیں :: پیش آیا ایک انوکھا واقعہ ہوائی جہاز مے جوڑے کی شادی ::گمشدہ ملائیشین طیارے کے ساتھ دراصل کیا ہوا تھا؟ ::دوران پرواز مسافر کی ایسی شرمناک حرکت کہ پائلٹ کو غصہ آگیا :: یاسر شاہ نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، کرکٹ کی 139 سالہ تاریخ بدل دی ::ایمریٹس ایئر لائن حادثہ۔مسافروں کی زندگیاں بچانے والا جانباز ہیرو ::کارگوطیارہ رن وے سے پھسلتا ہوا ہائی وے پر آگیا

Monday, 8 August 2016

PIA AIRHOSTESS

پی آئی اے کی ایئرہوسٹس نے حراساں کرنے کی شکایت پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کیخلاف سیکریٹری دفاع سمیت دیگر افسروں کیخلاف عدالت پہنچ گئی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی ایئرہوسٹس نے سیکریٹری دفاع سمیت دیگر افسروں کیخلاف مبینہ طور پر حراساں کرنے کی شکایت پرانتقام کا نشانہ بناتے ہوئے شوز کاز نوٹس جاری کرنے پرسندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیاہے۔
ایکسپریس ٹریبون کے مطابق ایئرہوسٹس شاہیلا پروین نے سیکریٹری دفاع ،چیئرمین پی آئی اے ،جنرل منیجر ،چیف میڈیکل آفیسر،ہیومن ریسورس ڈائریکٹر کیخلاف مبینہ طور پر حراساں کرنے کی شکایت پرانتقام کا نشانہ بناتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کرنے پر عدالت سے رجوع کر لیاہے جس پر عدالت نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 22اگست کو جواب طلب کر لیاہے ۔
شاہیلا نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیاہے کہ اس نے 2005میں پی آئی اے میں بطور جنرل منیجر اپنے فرائض کی ادائیگی شروع کی ۔پروین کا کہناتھا کہ  کچھ عرصہ بعد میں مجھے ظفر خاصخیلی کے ماتحت کر دیا گیا جوکہ پی آئی اے میڈیکل سینٹر کے کنٹرولر ہیں،جنہوں  نے مجھے مبینہ طور پر حراساں کرنا شروع کر دیا ۔
ایئر ہوسٹس نے عدالت کو بتایا کہ 16فروری 2015میں افسر کا مقصد اس وقت کھل کر سامنے آیا جب اس نے مجھے کچھ ضروری معلامات کیلئے مشاور ت کیلئے بلایا اور میرے ساتھ برتمیزی شروع کر دی ۔جس کیخلاف میں نے متعلقہ ادارے کو شکایت درج کروائی لیکن ڈاکٹر اے کیو اے اور ڈاکٹر نوید نے مجھ پر شکایت واپس لینے کیلئے دباﺅ ڈالنا شروع کر دیا ۔پروین کا کہناتھا کہ اسے مبینہ طور پر شکایت واپس نہ لینے پر بھی انتقام کا نشانہ بنایا گیاہے ۔خاتون کا کہناتھا کہ انتظامیہ کی جانب سے مجھے اور میرے خاندان کو پی آئی اے طبی سہولیات میں طبی سہولت دینے سے انکار کر دیا گیاحتیٰ کہ جب میں حاملہ تھی تو مجھے ایمبولینس بھی فراہم نہیں کی گئی جس کے باعث میرا حمل ضائع ہو گیا اور انتظامیہ میرے ’بچے ‘کی ہلاکت کے بھی ذمہ دار ہیں ۔خاتون کا کہناتھا کہ بعد میں ہیومن ریسورس ڈائریکٹر کی جانب سے مجھے مبینہ طور پر حراساں کیے جانے کی غلط شکایت درج کروانے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ۔
خاتون نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ حراساں کرنے کیخلاف شکایت کرنے پر اسے مبینہ طور پر انتقام کا نشانہ بنا یا گیاہے اس لیے شوکاز نوٹس کو معطل کیا جائے ۔عدالت نے خاتون کی درخواست پر تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں اور 22اگست کو جواب طلب کر لیاہے ۔جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی سیکریٹری دفاع ،چیئرمین پی آئی اے ،جنرل منیجر،ڈائریکٹری ایچ آر ،چیف میڈیکل آفیسر ،کنٹرولر میڈیکل سینٹر کا موقف جمع کروانے کیلئے نوٹس جاری کردیا گیاہے ۔