نئی خبر

آئی ایس آئی کے پانچ ایسے کارنامے جسے ہر پاکستانی کیلئے جاننا ضروری ہے ::دنیا بھر میں جہازوں کی خطرناک لینڈنگ اور ٹیک آف کی ویڈیو ::عازمین حج کو جدہ یا مدینہ ایئر پورٹ سے ہی موبائل فون سمیں خریدنے کی ہدایت ::وہ 33ممالک جہاں پاکستانی بغیر کسی ویزے کے جا سکتے ہیں :: پیش آیا ایک انوکھا واقعہ ہوائی جہاز مے جوڑے کی شادی ::گمشدہ ملائیشین طیارے کے ساتھ دراصل کیا ہوا تھا؟ ::دوران پرواز مسافر کی ایسی شرمناک حرکت کہ پائلٹ کو غصہ آگیا :: یاسر شاہ نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، کرکٹ کی 139 سالہ تاریخ بدل دی ::ایمریٹس ایئر لائن حادثہ۔مسافروں کی زندگیاں بچانے والا جانباز ہیرو ::کارگوطیارہ رن وے سے پھسلتا ہوا ہائی وے پر آگیا

Saturday, 30 July 2016

MQM

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) وسیم اختر کی گرفتاری کے بعد پولیس نے ایم کیوایم کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے بھی کمر کس لی ہے۔ پولیس نے متحدہ کے رکن قومی اور صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کی گرفتاری کے لیے اعلیٰ حکام سے اجازت مانگ لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پولیس متحدہ رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے سرگرم ہو گئی۔ نامزد مئیر کراچی وسیم اختر کی گرفتاری کے بعد اشتعال انگیز تقریر کے مقدمات کی بند فائلیں کھلنے لگیں۔ ملیرسٹی تھانے میں درج دو مقدموں میں نامزد متحدہ رہنماؤں کو پہلے ہی عدالت اشتہاری قراردے چکی ہے۔ وسیم اختر کے بعد پولیس نے مقدمے میں مزید رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے اجازت مانگی ہے۔ درج مقدمات میں قمر منصور‘ فاروق ستار‘ رشید گوڈیل‘ خالد مقبول صدیقی‘ طیب ہاشمی‘ سیف یار خان نامزد ہیں۔ مقدمے میں ایم کیوایم کے سیکٹر انچارج ضمیر الحق‘ سلمان مجاہد‘ عارف ایڈووکیٹ اور دیگر رہنما بھی نامزد ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اشتعال انگیز تقریر کے مقدمے میں روف صدیقی کے علاوہ کسی بھی رہنما نے ضمانت حاصل نہیں کی جبکہ سیف یار خان ایم کیو ایم چھوڑ کر پی ایس پی میں شامل ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب پولیس نے وزیراعلی ہاؤس کے سامنے احتجاج اور مٹکے توڑنے کے مقدمے میں وسیم اختر کو دھر لیا۔ عدالت نے پولیس کی رپورٹ پر ملزم کو جیل سے عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا جبکہ عدالت نے ریڈ زون میں احتجاج کرنے کے مقدمے میں فاروق ستار‘ خواجہ اظہار الحسن سمیت دیگر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ ادھر ایم کیو ایم کے پراسرار طور پر غائب رکن سندھ اسمبلی ندیم راضی امریکا پہنچ گئے ہیں۔ پی ایس 121 ملیر سے منتخب رکن سندھ اسمبلی دو ماہ سے قیادت سے رابطے میں نہیں تھے۔ ندیم راضی کو مختلف الزامات میں قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ایک ماہ قبل طلب کیا تھا۔