دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک نے چین کو کھلا چیلنج دے دیا، انتہائی سنگین خطرہ پیدا ہوگیا
بحیرہ جنوبی چین کی ملکیت کے مقدمے میں عالمی ثالثی عدالت کا چین کے خلاف فیصلہ آنے پراس سمندری علاقے کے ملکیت کے دعویدار ممالک نے سکیورٹی بڑھانی شروع کر دی ہے جس سے خطے میں جنگ کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ تائیوان کے بعد اب انڈونیشیاءنے بھی چین کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے بحیرہ جنوبی چین میں واقع اپنے جزائر میں سکیورٹی تیزی کے ساتھ انتہائی سخت کرنی شروع کر دی ہے۔ ان جزائر میں پہلے بھی انڈونیشیاءکی چینی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہو چکی ہیں۔چینل نیوز ایشیاءکی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیاءکے وزیردفاع ریامیزرڈ ریاکوڈو(Ryamizard Ryacudu)کا کہنا ہے کہ ”انڈونیشیاءکے نتونا (Natuna)جزائر پر جنگی بحری جہاز، ایک ایف 16جنگی طیارہ، زمین سے فضاءمیں مار کرنے والے میزائل، ریڈار اور ڈرون تعینات کیے جا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان جزائر پر نئی بندرگاہیں بھی تعمیر کی جا رہی ہیں۔“
رپورٹ کے مطابق ریامیزرڈ ریاکوڈو کا کہنا تھا کہ ”ان جزائر پر کی جانے والی تنصیبات ہماری آنکھیں اور کان ہوں گی جن کے ذریعے ہم پورے بحرجنوبی چین پر نظررکھ سکیں گے کہ وہاں کون کیا کچھ کر رہا ہے۔ان تنصیبات کی تعمیر حالیہ مہینوں میں شروع کی گئی ہیں اور ایک سال سے بھی کم عرصے میں مکمل ہو جائیں گی۔ بیرکیں اور رہائشی عمارات تعمیر کرنے کے بعد ہم اپنے ان جزائر پر سپیشل ایئرفورس، میرین ٹاسک فورس اور آرمی بٹالین تعینات کریں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم بحرجنوبی چین کو فوجی علاقہ نہیں بنانا چاہتے مگر اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہمارا حق ہے۔ یہ جزائر ہمارے ملک کا داخلی دروازہ ہیں تو پھر ہم اس کی حفاظت کیوں نہ کریں۔“
