نئی خبر

آئی ایس آئی کے پانچ ایسے کارنامے جسے ہر پاکستانی کیلئے جاننا ضروری ہے ::دنیا بھر میں جہازوں کی خطرناک لینڈنگ اور ٹیک آف کی ویڈیو ::عازمین حج کو جدہ یا مدینہ ایئر پورٹ سے ہی موبائل فون سمیں خریدنے کی ہدایت ::وہ 33ممالک جہاں پاکستانی بغیر کسی ویزے کے جا سکتے ہیں :: پیش آیا ایک انوکھا واقعہ ہوائی جہاز مے جوڑے کی شادی ::گمشدہ ملائیشین طیارے کے ساتھ دراصل کیا ہوا تھا؟ ::دوران پرواز مسافر کی ایسی شرمناک حرکت کہ پائلٹ کو غصہ آگیا :: یاسر شاہ نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، کرکٹ کی 139 سالہ تاریخ بدل دی ::ایمریٹس ایئر لائن حادثہ۔مسافروں کی زندگیاں بچانے والا جانباز ہیرو ::کارگوطیارہ رن وے سے پھسلتا ہوا ہائی وے پر آگیا

Friday, 15 July 2016

CHINA

دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک نے چین کو کھلا چیلنج دے دیا، انتہائی سنگین خطرہ پیدا ہوگیا

 بحیرہ جنوبی چین کی ملکیت کے مقدمے میں عالمی ثالثی عدالت کا چین کے خلاف فیصلہ آنے پراس سمندری علاقے کے ملکیت کے دعویدار ممالک نے سکیورٹی بڑھانی شروع کر دی ہے جس سے خطے میں جنگ کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ تائیوان کے بعد اب انڈونیشیاءنے بھی چین کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے بحیرہ جنوبی چین میں واقع اپنے جزائر میں سکیورٹی تیزی کے ساتھ انتہائی سخت کرنی شروع کر دی ہے۔ ان جزائر میں پہلے بھی انڈونیشیاءکی چینی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہو چکی ہیں۔چینل نیوز ایشیاءکی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیاءکے وزیردفاع ریامیزرڈ ریاکوڈو(Ryamizard Ryacudu)کا کہنا ہے کہ ”انڈونیشیاءکے نتونا (Natuna)جزائر پر جنگی بحری جہاز، ایک ایف 16جنگی طیارہ، زمین سے فضاءمیں مار کرنے والے میزائل، ریڈار اور ڈرون تعینات کیے جا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان جزائر پر نئی بندرگاہیں بھی تعمیر کی جا رہی ہیں۔“


رپورٹ کے مطابق ریامیزرڈ ریاکوڈو کا کہنا تھا کہ ”ان جزائر پر کی جانے والی تنصیبات ہماری آنکھیں اور کان ہوں گی جن کے ذریعے ہم پورے بحرجنوبی چین پر نظررکھ سکیں گے کہ وہاں کون کیا کچھ کر رہا ہے۔ان تنصیبات کی تعمیر حالیہ مہینوں میں شروع کی گئی ہیں اور ایک سال سے بھی کم عرصے میں مکمل ہو جائیں گی۔ بیرکیں اور رہائشی عمارات تعمیر کرنے کے بعد ہم اپنے ان جزائر پر سپیشل ایئرفورس، میرین ٹاسک فورس اور آرمی بٹالین تعینات کریں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم بحرجنوبی چین کو فوجی علاقہ نہیں بنانا چاہتے مگر اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہمارا حق ہے۔ یہ جزائر ہمارے ملک کا داخلی دروازہ ہیں تو پھر ہم اس کی حفاظت کیوں نہ کریں۔“