نئی خبر

آئی ایس آئی کے پانچ ایسے کارنامے جسے ہر پاکستانی کیلئے جاننا ضروری ہے ::دنیا بھر میں جہازوں کی خطرناک لینڈنگ اور ٹیک آف کی ویڈیو ::عازمین حج کو جدہ یا مدینہ ایئر پورٹ سے ہی موبائل فون سمیں خریدنے کی ہدایت ::وہ 33ممالک جہاں پاکستانی بغیر کسی ویزے کے جا سکتے ہیں :: پیش آیا ایک انوکھا واقعہ ہوائی جہاز مے جوڑے کی شادی ::گمشدہ ملائیشین طیارے کے ساتھ دراصل کیا ہوا تھا؟ ::دوران پرواز مسافر کی ایسی شرمناک حرکت کہ پائلٹ کو غصہ آگیا :: یاسر شاہ نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، کرکٹ کی 139 سالہ تاریخ بدل دی ::ایمریٹس ایئر لائن حادثہ۔مسافروں کی زندگیاں بچانے والا جانباز ہیرو ::کارگوطیارہ رن وے سے پھسلتا ہوا ہائی وے پر آگیا

Sunday, 31 July 2016

AFGHAN

افغانستان ،ہلمند کے اہم ضلع خانشین پر طالبان کا قبضہ ،لڑائی میں 20اہلکار ہلاک

کابل(اے این این) افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند کا ایک اہم ضلع پر طالبان نے قبضہ کرنے کا دعوی کیا ہے جب کہ اب بھی یہاں سکیورٹی فورسز سے شدت پسندوں کی لڑائی جاری ہے۔امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" نے صوبائی کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالمجید اخونزادہ کے حوالے سے بتایا کہ شدید لڑائی کے نتیجے میں ضلع خانشین پر طالبان نے قبضہ کر لیا۔ان کے بقول لڑائی میں افغان پولیس کے 20 اہلکار ہلاک یا زخمی بھی ہوئے ہیں اور اب بھی یہاں لڑائی ہو رہی ہے۔یہ ضلع پاکستان کی سرحد کے قریب اور پوست کی کاشت کے بڑے علاقوں میں سے ایک جب کہ منشیات کی اسمگلنگ کے لیے بھی یہ ایک اہم گزرگاہ تصور کیا جاتا ہے۔اخونزادہ کا کہنا تھا کہ ضلعی پولیس کے سربراہ اور انٹیلی جنس ایجنسی کے نائب سربراہ بھی جمعہ اور ہفتہ کو دیر گئے ہونے والی لڑائی کے دوران شدید زخمی ہوئے ہیں۔طالبان نے گزشتہ سال کے اواخر سے افغانستان میں اپنی پرتشدد کارروائیوں کو تیز کر دیا تھا جن میں رواں برس زیادہ شدت دیکھی جا رہی ہے۔خانشین پر طالبان کا قبضہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب جمعہ کو ہی افغانستان سے متعلق نگرانی کے اعلی ترین امریکی ادارے "سینٹرل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن" نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ رواں سال جنوری سے مئی تک افغان حکومت ملک کے پانچ فیصد حصے پر سے اپنا کنٹرول کھو چکی ہے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس عرصے میں طالبان نے دس مختلف اضلاع کو اپنے دائرہ اثر میں لیا۔2014 کے اواخر میں بین الاقوامی افواج کے اں خلا کے بعد سے ایک سکیورٹی معاہدے کے تحت لگ بھگ 12 ہزار غیر ملکی فوجی جن میں اکثریت امریکیوں کی ہے، افغانستان میں موجود ہیں لیکن سلامتی کی ذمہ داری مقامی افغان فورسز کے پاس ہے جنہیں بین الاقوامی فوجی معاوت بھی حاصل ہے۔